Sunday, 3 June 2018

اسلام اور تصوّف کی غیر متنازعہ روایت: اقبال کے خصوصی حوالے سے


حقیقت عظمٰی جاننے اور اس سے رابطے کے لئے انسان کے پاس چار طریقے رہے ہیں مذہب،فلسفہ، تصوّف(سرّیت)اور شاعری۔سریت یا تصوف کو سرے سے رد کرناانسان کے ایک حس کو معطل کرنا ہے۔ ان چاروں دبستانوں کو اپنی اپنی حد اختیار میں رکھ کر انکو حقیقت کے کامل عرفان کا ذریعہ بنانا انسانکی کامل تشفگی کا ضامن ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کی تعبیر و تفہیم میں مدد دے سکتے ہیں۔مذہب کے ڈانڈے فلسفہ و سریت سے اور تینوں شاعری کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ اقبال دنیا کی ان چند بڑی ہستیوں میں شامل ہیں جو ا ن سب طریقوں سے اعتنا رکھتے ہیں اور یہ انکی عالمگیر مقبولیت کی ایک وجہ ہے۔آج ہم انکیے تصوّف کی جہت کے مطالعہ کے سلسلے میں چند اہم نکتے زیرِبحث لاتے ہیں۔

      دوسرے اہم علوم جنمیں فقہ، حدیث اور فلسفہ و سائنس کی بہت سی جہات اور انکی ترقی شامل ہیں کی طرح تصوّف کے برگ و با ربھی عرب سے باہر ہی ظاہر ہوے۔تصوّف عجم میں پھلا پھولا۔تصوّف ہمیشہ سے دین کا حسن یا اسکی تکمیل یا اسکی اخلاقی و روحانی جہات کی بازیافت کے طور اسلام کا جزو لا ینفک یا مقصود گردانا گیا ہے۔اس کے لےٗ احسان کی اصطلاح مستعمل تھی۔ اکابرِ صوفیا کے نزدیک یہ اخلاص فی لعمل یا شریعت پر عمل کو تکلیف کے بجاے شوق و ذوق یا انہماک یا محبت کے دائرے میں لانے یا علم وعرفان کے زاویے کو زیرِنظر رکھنے سے عبارت ہے۔ اسلام کی جامع روایت میں شریعت کی پاسدار ی( اگر چہ حقیقت کے بالمقابل اسکی عملی شکل جسے فقہ کہتے ہیں، کی اصولی اضافیت اور زما ن و مکان کی تبدیلی کی وجہ سے اسکی تکثیریت) ہمیشہ سے تصوّف کا لازمہ رہا ہے۔تصوّف یا سلوک کے اس integral  تصور کے حوالے سے اکابرین علما و صوفیاکا اجماع رہا ہے۔ اسلام کی ہر بڑی شخصیت سلوک یا طریقہ احسانی یا عام الفاظ میں تصوّف سے منسلک رہی ہے۔ یہ روایت آج تک جاری و ساری ہے۔ ابن تیمیہ ہوں یا ابن جوزی یا اکابرین اہل حدیث یا اکابرین دیوبند یا بریلی سب اصولی طور پرمعروف معنوں میں اہل تصوف میں شمار کیےے جا سکتے ہیں۔ سید مودودی جنکے حوالے سے کافی بدگمانیاں پھیل گئی نے صراحت کے ساتھ تصوف سے اپنی وابستگی ظاہر کی ہے۔ جس تصوف کی وکالت مولانا تھانوی یا مولانا عبد القادر راےَ پوری یا مولانا مناظر احسن گیلانی کرتے ہیں اسکی روح مولانا مودودی بلکہ غامدی صاحب کے ہاں بھی واضح نظر آتی ہے۔ امام غزالی ہوں یاشیخ سرہندی یا شاہ و لی اللہ یا کشمیر کے حوالے سے شاہ ھمدان یا شیخ العالم یا شیخ حمزہ مخدوم یا شیخ صرفی ( سب اہم غیر متنازعہ مذہبی یا دینی شخصیات جنکا احترام اہل دیو بند یا اہل بریلی یا اہل حدیث سب کے نزدیک پایا جاتا ہے) سب ٹھیٹ معنوں میں صوفی ہیں اقبال چونکہ اسلامی روایت سے پیوستہ ہیں اسلےَ صوفی ہی ہو سکتے ہیں۔ٗ

      اقبال بنیادی طور پر صوفی مفکر اور شاعر تھے اگر چہ ا نکو عام طور پر عجمی تصوّف کے مخالف کے طور پر گردانا جاتا ہے لیکن اس تاثر کیلئے کسی حد تک وہ خود بھی ذمہ دار ہیں۔ماہرین اقبالیات نے اقبال کی ایرانی یا عجمی تصوف پر تنقید کو ان کے کلام کے تناظر میں سمجھنے کی بھر پور کوشش نہیں کی ہے۔ اقبال عجمی تصوّف کو اسلام مین اجنبی پودا تصورنہیں کرتے ہیں اور انکو ہم ایرانی صوفیانہ مفکر ین کی صف میں کھڑا دیکھ سکتے ہیں ۔ اور ان کو کچھ صوفیا پر تنقید یا تصوّف کو باہری اثرات سے پاک کرانے یا اسلامائز کرنے کی سعی انہیں عجمی صوفیہ کی صف سے الگ نہیں کرتی ہے۔ انکا اختلاف عجمی صوفیہ سے دراصل تعبیر کا اختلاف ہے اور بڑی حد تک نزاعِ لفظی۔

      اس مقالے میں اقبال اور تصّوف پر ہوئی پرانی بحث اور انکی اس موضوع پر مختلف تحریروں کو کنگھالنا اور اصل حوالوں سے نقل کرنا نہیں بلکہ ایک مختلف زاوؤے سے ان اہم نکات کا تجزیہ کرنا ہے جنکو عام طور پر اس سلسلے میں اُٹھایا جاتا ہے اور اقبال کی مبّینہ تصوّف(بالخصوص عجمی تصوّف) دشمنی پر انکی جو مختلف تحریریں ناقابل تردید شہادت کے بطور پیش کی جاتی ہیں انکا ایک مختصر جاأزہ لینا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کرنا ہے کہ وہ مجموعی طور پر خود ایک عجمی صوفی نظر آتے ہیں۔

      اقبال نے عجمی صوفی شاعری کومخرّبِ اخلاق کہا۔ حافظ پر شدید تنقید کی۔ ایسی تنقید پر برصغیر کے اکثر تصوّف پسند حلقے شدید برہم ہوئے اور اقبال کو حافظ ہی کانہیں تصوّف کا دشمن قرار دیا گیا ۔ تصوّف کے کچھ بنیادی تصوّرات جنمیں نفی خودی، توحید و جودی، قرآن کی باطنی تعبیر شامل ہیں، رد کئے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ انہوں نے عجمی تصوّف کو دور انحطاط کے سا تھ جوڑ دیا ۔ یہ بھی مسلمّہ ہے کہ انہوں نے ابن عربی کے مختلف نظریا ت کو شدید نتقید کا نشانہ بنایا ۔ اسکے لئے صوفی ما بعد الّطبیعات میںّ تنرّلات ستہ،قدمِ ارواحِ کاملہ جیسے نظریات صحیح نہیں ہیں۔ اقبال کے کچھ مشہور جملے اور وہ سارے بیانات جو انکی عجمی تصوّف کے تئیں  نا قدانہ انداز فکر کےّ غماز ہیں کو زیرِ نظر رکھکر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ عجمی تصوّف کے بڑے مفکرین میں سے ہیں؟سب سے پہلے ہم اقبال کے بنیادی تصوّرات جن کا تعلق انکی صوفیانہ فکر سے ہے ،کے متعلق کچھ نکتے پیش کر تے ہیں ۔

      اقبال کا مرکزی نکتہ تصوّرِخودی ہے۔ احساسِ خودی صوفیانہ فکر کی اساس ہے اگر اس بات پر خاص زور دیا جائے کہ ’’میں‘‘ کہنے کا حق حقیقت میں اللہ کو ہے، اور بند ے کو تب ہی جب وہ بقا باللہ کے مقام پر پہنچے۔ اقبال کے نزدیک بھی خودی تب ہی مستحکم ہوتی ہے جب اسے خدا کا قرب نصیب ہو۔ اقبال نے، جیسا کہ میکش اکبر آبادی نے لکھا ہے، بقا با للہ کیلئے خودی کا لفظ استعمال کیا اور انسان کا مل کیلئے مرد مومن کی اصطلاح ۔

      یہ بات اگر چہ صحیح ہے کہ صوفیانہ لٹریچر میں خودی کو ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے اور لفظ خودی عام طور پر منفی معنوں میں مستعمل ہے اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اقبال اسی منفی تصّورِ خودی کو مستحکم کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ صوفیانہ ادب میں کہیں کہیں پر خودی کو مستحسن معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس بات پر بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ اقبال نے تکبرّ کے معنی میں اسکا استعمال کیاہے یا فرعونی خودی کی وکالت کی ہے اگر چہ شجاع الحق کو Forgotten Truth میں یہ تسامح ہو اہے۔ اقبال نے دراصل عبد اور معبود ،نفس اور روح ، محدود اور لامحدود اور اضافی اور مطلق کے مابین فرق کو ملحوظ رکھنے کیلئے اس بات پر شدّت سے زور دیا ہے ۔ تمام اکابرصوفیہ نے عبد اور معبود کے بنیادی فر ق کو ملحوظ نظر رکھا ہے۔ اور ابن عربی نے واضح الفاظ مین لکھا ہے کہ بندہ اور خدا ایک نہیں ہیں۔ انکے الفاظ میں خدا کتنا ہی تنّزل احتیار کرے بندہ نہیں بنتا اور بندکتنی ہی ترقی کرے خدا نہیں بن سکتا ۔ توحید و جودی کے معنی ہر گز یہ نہیں کی خدااور بندہ ایک ہو جاتے ہیں ، شریعت منسوخ ہو جاتی ہے، ثواب اور گناہ کی تفریق مٹ جاتی ہے اور انسان غیر مکلف ہو جاتا ہے۔ابن تیمیہ کی ابن عربی پر تنقید بڑی حد تک غلط فہمی اور غلط معلومات کا نتیجہ ہے آج جب کہ ابن عربی پر کافی کام ہو چکا ہے، یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ابن تیمیہ اور انکے ہم خیال متاخرین کو وحدت الوجود کے متعلق سے بڑی غلط فہمیاں ہوئی ہیں۔ اقبال بھی آخر عمر میں اس انتہائی نازک فرق کو پوری طرح پہچان گئے تھے جو وحدت ا لوجود کی صحیح اور ملحدانہ تعبیر میں ہے۔ اور اسکے متعلق خاموشی ہی اختیا ر کرنے کو کہتے تھے۔

      اقبال آخر عمر میں وجودی ہوگئے تھے یا نہیں اس بات پر الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اقبال کے ہر دورکے کلام میں قریب قریب اسی منہاج ، اسی ضابطہ اخلاق کی بات کہی گئی ہے جو اکابر صوفیا کے ہاں ہمیں ملتا ہے۔’’ اسرار خودی‘‘ میں جس ضابطہ اخلاق اور پابندئ شریعت کی بات کہی گئی ہے وہی اکابر صوفیا کے ہاں بھی ہے ۔ اقبال کو تصوّف کے فلسفہ بننے پر اعتراض تھا اور یہ اعتراض اکابر صوفیہ کو بھی ہے اور بحیشیت فلسفہ تصوّف پر نا قدانہ نگاہ ڈالی جاسکتی ہے ۔شہودیوں کا وجودیوں سے اختلاف دراصل اسی فلسفہ کے حوالے سے ہے ۔ تصوّف اکابر صوفیا کیلئے اخلاص فی العمل ہی کا نام ہے اور فلسفیانہ مسائل پر موشگافی تصوّف کا بنیادی طورپر Mandate ہے ہی نہیں۔ تصوف کا مقصود اللہ سے قر ب، بقا باللہ یا معرفت الٰہی ہے۔ اسکے لئے وجودی یا شہودی ہونا غیر متعلق مسئلہ ہے ۔اخلاقیات پر وجودیوں اور شہودیوں کے مابین کوئی بنیادی نزاع ہے ہی نہیں۔ شریعت کی پابندی دونوں کے ہا ں اصولی طور پر مسلّم ہے عبد و معبود ، ۔ہدایت وضلالت ، نیکی و گناہ ، حلال و حرام کا فرق دونوں نظریوں میں ملحوظ نظر رکھا گیا ہے۔

      یہ بحث بھی ہمارے بنیادی ادّعا پر کوئی اثر نہیں ڈالتی ہے کہ وحدت الشہودیا وحدت ا لوجود میں سے کون سلوک کی اعلیٰ منزل ہے ۔ مقصد اگر نجات ہے یا ؂عرفان الٰہی تو یہ بات کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں کہ سا لک کو سب کچھ ایک دکھے یا خالق سے اپنی مغایرت کا احساس ہو۔ ایک ہی سالک مختلف حالتوں میں دونوں طرح کی کیفیات سے گزر سکتا ہے جب ہم غیر کی طر ف نگاہ مرکوز کریں اور خود کا احساس ختم ہوجائے تو اسکے یہ معنی ہر گز نہیں کہ بندگی کی جہت سے ماورائت ہو جاتی ہیں ۔ شاید یہ بات ہرشخص وہ صوفی ہو یا نہیں پرمنطبق ہوتی ہے کہ وہ کبھی شہودی ہو جاتا ہے اور کبھی وجودی ۔ جب کچھ خاص لمحات میں ہم دنیا و ما فیھاسے بے گانہ ہو جاتے ہیں اور عارف و معروف میں فاصلے ختم ہو جاتے ہیں ، تو ہم وجودی ہو جاتے ہیں ۔ لیکن یہ کیفیت لمحاتی ہو تی ہے اور پھر ہم معلوم دنیا میں واپس آتے ہیں تو ہم شہودی بن جاتے ہیں یہ دونوں تجربات ہیں ۔اور دونوں عام معنوں میں وقوفی cognitive نہیں ۔ تصوّف اور دوسرے سرّی فلسفوں اور مذاہب کے مطابق Experiencer بیچ میں ہٹنا چاہیے تب ہی اللہ یا حقیقت کا عرفان ممکن ہے ۔ خدا کا عرفان کوئی ایسی چیز نہیں کہ جسے متعین کیا جاسکے یا جسکا ٹھیٹ معنوں میں تجربہ کیا جاسکے۔ گسستن اور پیوستن کی اصطلاحیں جو اس سلسلے میں وضع کی گئی ہیں حقیقی اختلاف کو ظاہر نہیں کرتی۔وصال مطلق معنوں میں کبھی ہوتا ہی نہیں ہے اور نہ ہی کسی بڑے عجمی یا غیر عجمی صوفی نے اسکا دعوی کیا ہے ۔ وائٹہیڈ نے اپنی مشہور کتاب ’’دور جدید میں سائنس ‘‘ میں سرّی نظریہ کی ترجمانی کرتے ہوے خدا کو ناممکن الحصول تلاش Unattainable quest سے تعبیر کیا ہے۔ اگر ہم ذرا غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا کسی ایسی شئی کا نام نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ وہ یہ ہے یا وہ ہے اور جسکا ہم تصّورکر سکیں ، یا جسکا تجربہ کر سکیں ۔ خدا کو پانا کسی Feeling یا جذبے کا نا م بھی نہیں ہے ۔ خدا کیا ہے؟ اسکے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ وہ زندہ حقیقت ہے مومنین کیلئے ۔ وہ محیط ہے. ہر لمحہ اسکی شان نرالی ہے۔ وہ زندگی کی غیوبیت Mystery ہے۔ اُسکا ظہور چار سو ہے ،ہر چیزاُسی سے ہے ۔ زندگی ، ہر دم رواں جا وداں زندگی جو ہر آن نئے رنگ میں دکھتی ہے ،جو ہر لمحہ آگے کی اور کسی نامعلوم منزل کی طرف گامزن ہے دراصل اپنے اند ر خدا کی صفات کی جلوہ گری ہے۔ ہر طرح سے محدود انسان کیلئے خدا کی لامحدودیت کا مکّمل تجربہ ممکن نہیں۔ جیسا کہ اسلام کے اس عقیدے کہ خدا کا دیدار اس دنیا میں ممکن نہیں ہے، سے متشرح ہوتا ہے۔ آخرت میں بھی ان معنوں میں دیدار خداوندی ممکن نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ وصال اپنے مطلق معنوں میں ہو گیا ۔ اللہ تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور جیسا کہ غزالی نے وضاحت کی ہے وہ نور ہے جس سے آنکھیں دیکھ پاتی ہیں وہ نہ آسمان میں، نہ زمین میں نہ ان سے پرے کوئی مخصوص شئی ہے۔Theology(خدا کے متعلق علم) ، دراصلAutology (ذات کا علم)ہے جیسا کہ مشہور عالمِ مذاہب وسرّیت آنند کمارا سوامی کہتے تھے ۔ بندہ بندگی یا عبودیت سے مطلق معنوں میں ورائییت کبھی بھی نہیں حاصل کر پاتا ہے ۔ شان بندگی دے کر شان خداوندی لینا کسی بھی سرّی مفکر یا صوفی کے نزدیک ممکن نہیں ۔ اگر خدا مطلق شعور اور وجود کا نام ہے تو یہ زماں ومکاں میں قید جسم سے بندھے بندہ کیلئے ناممکن الحصول ہے۔ بندہ سے اضافیت کی حدبندی کسی بھی طریقے سے ہٹائی نہیں جاسکتی ۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ صوفیا نے عشق کی فراوانی ، اسکی افزودگی اور ابدیت کی بات کی ہے ۔ صوفی محبت سے عبارت ہے صوفی کا محبوب کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا اسی لئے محبت کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ ذاتِ خداوندی گہرائیوں میں ان گنت پردوں کے اندر چھپی ہوئی ہے ۔ ان گہراوں میں کسی بھی شخص یا ولی کی مکمل رسائی کبھی ممکن نہیں ۔ صوفی کو دائمی محبت اور نہ ختم ہو نے والی تلاش ہے ۔ وصال ہرآن بس ہونے کو ہوتا ہے لیکن ہوتا نہیں۔ صوفی شاعری میں اسی لئے شکایتیں ہیں۔ شنکر جیسے وید انتک وجودی کیلئے بھی منا جات کے بغیر چارہ نہیں ۔ ابن عربی جو اسلام میں وجودیوں کے سرخیل تسلیم کئے جاتے ہیں کو بھی گڑ گڑا نے سے کبھی مفر نہ ہو ا ۔ حضور ﷺ کا عبادت میں انہماک اس حد تک تھاکہ پاوٗں متورّم ہوجاتے تھے۔ اسلئے اقبال کا صوفیوں سے اس بارے میں کوئی بنیاد ی اختلاف ہوہی نہیں سکتا کہ وہ خود کو فراق کا نمائندہ سمجھتے ہوں اور اکثر صوفیا کو وصا ل کا۔ یہ ضرور ہے کہ ہر صوفی کو وصال کی تمنا ہے اور اقبال کو بھی ہم کنار یا بے کنار ہونے کو خواہش ہے اور یہ مطلق وصال کی خواہش ہی زندگی کو معنی دیتی ہے ۔

      یہ بات کہ عجمی تصوف کی شاعری دور الخطاطہ میں ہو ئی ہے یا الخطاط کیلئے ذمہ دار ہے تاریخی حقائق سے براہ راست ٹکراتی ہے۔سید حسین نصر نے اس الزام کا تشفی بخش جواب دیا ہے ہر تہذیب میں دورِ عروج میں سرّی شاعری ہوئی ہے۔ سرّی یا صوفیانہ شاعری اعلی قسم کی تخلیقی کاوش ہے ۔بحیثیت آرٹ اسکا منفرد مقام ہے ۔حافظ کی شاعری کی جمالیاتی اہمیت تاج محل اور الحمرا سے کم نہیں ۔ اگر صوفی شاعری سُلا دیتی ہے تو آرٹ کے اکثر مظاہر بھی ایک خوش آئندسُکر کی کیفیت ناظرین یا سامعین پروارد کرتے ہیں(سکر کو صرف بیہوشی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں ہے، یہ روح کی آسودگی بھی ہے۔) ۔فن خواہشات اور جذبات کا ٹہراؤ ہے جیسا کہ جوائس نے اپنی مشہور ناول A Portrait of the Artist as a Young Man میں وضاحت کی ہے۔ مشرقی جمالیات کا بھی یہی رجحان ہے خوبصورتی ایک قدربڑی حد تک اسی لئے ہے کہ وہ انسان کو زماں و مکاں سے ماورایئت کا حسین احساس دیتی ہے۔ روح کے نہاں خانوں میں جہاں انبساط ہی انبساط ہے ہمیں لے جاتی ہے۔ سارے مذاہب کا مشترکہ نظر یہ ہے کہ نجات کیلئے عمل نہیں بلکہ روحانی آسودگی ، Becoming نہیںBeing بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔ محبت بھی تو خوبصورتی کی ایک قسم ہے ۔ موسیقی کو مسلمہّ اہمیت کے پیچھے وہ سکُر کی کیفیت ہی ہے جو اس سے پیدا ہوتی ہے ۔ کیا محبت یا عشق جسکے اقبال موؤد ہیں سُکر کی ایک قسم نہیں ؟ ذکر و فکر ‘ سوز وساز، عبادت و مناجات سب میں ایک لطیف قسم کی سُکر جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ زندگی کا حُسن اسی سُکر کی وجہ سے ہے جسے اقبال حافظ کا زہر کہتے ہیں۔معرفت تو ایک شراب ہی ہے۔ جب محبوبِ ازلی جھلکیا ں دکھاتا ہے تو کس زلیخا کے بس میں ہے کہ ہوش بحال رہے۔محبوب کی ایک جھلک دیکھکر ا نگلیاں تو کیا عاشق تو سینے تک چھلنی کر دیتے ہیں ۔ ممتا اور پیار کے مختلف رنگوں کا حسن انمیں سُکر کا عنصر ہے۔ Transcendence ، جو مذہب کی جان ہے، میں سکر کی وجہ سے کشش ہے۔
      عجمی صوفی شاعری کو عام معنوں میں مخرّبِ اخلاق نہیں کہا جا سکتا ۔اکابر صوفیا کی زندگیا ں اعلیٰ اخلاق کا نمونہ آج تک تصوّر کی جاتی ہیں۔ اسلام میں اخلاقیات پر سب سے اہم کام صوفیا ہی کا رہا ہے ۔ وعظ کی محفلوں میں رنگ صوفیا کے تذکروں سے بھر ا جاتا ہے جنمیں اعلیٰ اخلاق کا درس ہے۔ حلال وحرام کی تفریق کا سب سے زیادہ لحاظ صوفیا نے کیا ہے۔ حسن بصری سے شیخ علوی تک سب اکابر صوفیا کما ل احتیاط کی زندگی گزارتے تھے ۔ تصوف کی تقریباََ ساری کّتب میں اس کو تصوف کا اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ یہ صوفیہ کا اجماع ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر معرفت نہیں ۔ شریعت کو طریقت کیلئے پہلا زینہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ کمزور طبیعت کے لوگوں نے تصوف کا سہارا لیکر اخلاقی گمراہیاں روارکھی ہیں لیکن اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تصوف کی ذات پر الزام دھرا جائے۔

      یہ الزام کہ تصوف کے نام پر دین کی باطنی تفسیرکی گئی اور جہاد کو کالعدم قرار دیا گیا تاریخی طور پر بلا جواز ہے ۔ بڑے بڑے صوفیا نے جہادوں میں حصہ لیا ۔جابر حکمرانوں کو کھری کھری سنائی اور انکے عتاب کے شکار ہوئے ۔ دور جدید میں بھی کچھ جہادی تحریکوں کے روح رواں صوفیا رہے ہیں ۔ دین کی باطنی تفسیر جو ظاہر کوفریبِ محظ کہہ دے شاید ہی کسی عجمی صوفی سے منسوب ہے ۔ باطنیوں کی شدید تنقید ابن یتیمیہ جیسے لوگوں نے ہی نہیں کی بلکہ غزالی اور ابن عربی نے بھی۔ اقبال نے خود لکھا ہے کہ انہوں نے تاریخ تصوف لکھنے کا ارادہ کیا تھا لیکن کا م اوھورارہ گیا ۔ جومفروٖضے انکے ذہن میں تھے تاریخ میں اسکے لئے شہادت ملنا دشوار ہے ۔ باطنیوں نے بھی تلوار کو نیام میں رکھنے کی بات نہیں کہی ۔ جہادِ اصغر اورا کبر کی فر ق حدیثِ رسول سے بھی ثابت ہے ۔ اسلام میں دیگر مذاہب کی طر ح جہاد بالنفس فر ض عین ہے جسکی بدولت قرب الہیٰ یا معرفت الہیٰ ممکن ہوجاتی ہے۔

      پچھلی چند دہائیوں میں تصوّف پرکئے گئے کام سے یہ با ت واضح ہوگئی ہے کہ یہ مفر وضہ کہ تصوّف جسکے برگ و بار عالم اسلام میں بالعموم اورعالمِ عجم میں بالخصوص پھوٹ پڑے سر زمین اسلام میں اجنبی پودا ہے، مستشر قین کی اختراع ہے ۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ اب تقریباََ حتمی طور پر ثابت کر چکا ہے کہ سرّیت ہر دین کی جان ہے۔ ظاہر پر ستی Exotericismدین میں نئی چیز ہے، دین کیdistortionہے ۔روایت پرست Perennialistمفکرین نے مذہب اور سرّیت کے مابین رشتے کی وضاحت کی ہے۔

      اقبال کے جملے’ تصٗوف وجودی اسلام کی سرزمیں میں اجنبی پودا ہے ‘ کو’ تصٗوف کا وجود ہی سرزمیں اسلام میں اجنبی پودا‘ نقل کیاگیا اور اکثر ناقدین نے اس جملے کو انکی واضح تحریروں، انکی زندگی اور انکے اور بنیادی متصوفانہ خیالات کی روشنی میں دیکھنے کی زحمت نہیں کی اواسکو انکی تصٗوف دشمنی پر محمول کیا اگر چہ علامہ نے اسکی پرزور تردید کی تھی۔ اگر چہ خود اقبال نے بعد میں ایک لحاظ سے وجودی تصٗوف کی بھی بازیافت کی تھی اورانکے ہاں بھی عجمی تصوّف سے منسوب نظر یہ وحد ت الوجود اور تنرّلات کی باز گشت واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم انکی شاعری سے نہیں انکی نثر بالخصوص انکی’’ تشکیلِ جدید‘‘سے کافی شہادتیں فراہم کر سکتے ہیں۔ شاعری سے یہاں اسلئے استشہاد نہیں کریں گے کہ وہاں ہر قسم کے نظر ئے کیلئے کچھ نہ کچھ اشعار پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ اگر چہ یہ بات اکثر نقادوں نے تسلیم کی ہے کہ انکی شاعری میں بتدریج روایتی یا عجمی تصوّف کی طرف مراجعت پائی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر عمر میں یوسف سلیم چستی کے بقول پوری طرح وجودی ہو گئے تھے ۔’’ تشکیلِ جدید‘‘ کے یہ جملے کس قدر واضح ہے’’یہ دنیا اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ ، اس شئ کی میکانکی قوت سے لے کرجسے مادے کا ایٹم کہتے ہیں انسانی انا کے تصوّر کی بلکل آزادانہ حرکت تک انائے اعظم کا خود کو ظاہر کرنا ہے‘‘اور’’اس انانیت کے ظہور کے درجے ہیں۔‘‘ خطبہ سدارت مسلم لیگ میں کہا تھا  ’’مذہب اسلام کی رو سے خدا اور کائنات کلیسا اور ریاست اور روح اور مادہ ایک ہی کل کے مختلف اجزا ہیں‘‘ ۔ ’’ تشکیلِ جدید‘‘ میں ابن عربی کے اہم جملہ ’’ الحق محسوس والخلق معقول ‘‘کو صحیح مان کر حوالہ دیتے ہیں ۔بایزید بسطامی کے بیان کو جو آغاز آفرنیش کے متعلق دیا گیا ہے ’’جیساتب تھا ویسا آج بھی ہے‘‘ اور جسکے معنی تقریباََ وہی ہیں جو متہمم شدہ نظریہ ابدیت عالم سے نکلتے ہیں،کو بھی صحیح مان کر وہاں حوالہ دیتے ہیں ۔ قدمِ ارواحِ کاملہ تو اس سے بہت چھوٹی بات ہے۔ قدمِ ارواح کا نظریہ دراصل قرآنی آیت ...’’نفخت من الروحی‘‘ سے براہ راست مستنبظ ہوتا ہے ۔ اگر انسان مین ایک ایسا عنصر ہے جو عرفان الہی ٰ کو ممکن بناتا ہے جیسا کہ تمام سرّی ہدایات جو مختلف مذاہب میں ہیں ،کا مشترکہ ادّعا ہے تو قدمِ ارواحِ کاملہ کے نظریہ پر اعتراض کیوں ؟ مذہبی تجربہ جو اقبال کی تشکیلِ جدید میں بنیادی دلیل کے طور پر استعمال ہوا ہے اور انکا تصور عشق جس بنیاد پر کھڑا ہے، وہی چیز قدمِ ارواحِکاملہ کے حاملین بھی اپنی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔یہ بھی ملحوظ نظر رہے کہ تما م سرّی فلسفے نفس کو فانی اور روح کو غیر فانی مانتے ہیں ۔ سارے مسلم مفکرین نے نفس اور روح کے مابین نازک لیکن اہم فر ق کو نظر انداز نہیں کیا ہے ۔ نفس کے تقدّم کا کوئی بھی مذہب اور صوفی مفکر قائل نہیں لیکن روح میں الوہی عنصر جسکے قدیم ہونے پر سب متفق ہیں کی موجودگی کی وجہ سے تخلیق شدہ ماننے سے انکاری ہیں ۔ دراصل مذاہب کے درمیان نظریہ تخلیق اور نظریہ ارواح کے حوالے سے بنیادی فرق نہیں ہیں ۔ جیسا کہ روایت پسند مفکرین نے صراحت کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ قرآن میں نفس اورروح کو ایک ہی معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اگر چہ اس موضوع پر خامہ فرسائی کرنے والے کچھ لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے ۔ اقبال نے بھی نفس اور روح کے نازک لیکن بنیادی فرق کو ملحوظِ نظر نہیں رکھا ہے۔

وجودیوں پر یہ اعتراض کہ وہ عالم کو دھوکہ سمجھتے ہیں نہ کہ حق کا مظہر سراسر غلط ہے یہ الزام بھی غلط ہے کہ تصوف میں رہبانیت کو تعلیم ہے ۔ عجمی تہذیب بحثیتِ مجموعی ارٖضی تہذیب ہے اسلئے رہبابیت کو زیادہ جگہ بھی نہیں دی ۔سارے ایرانی انبیاء زمین سے بڑی حد تک وابستہ رہے ہیں ۔ اکابر صوفیا نے رہبانیت کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ اکثر صوفیا شادی شدہ تھے ۔اور لوگوں کے ساتھ خوب ملتے جلتے تھے ۔ کچھ دیر تک خلوت میں سب صوفیوں کو رہنا پڑنا ہے لیکن خلوت بذات خود مقصود نہیں ۔ غاروں میں رہنا بالعموم صوفیوں کے نزدیک مذموم ہے۔ ابن عربی نے صراحت کے ساتھ اس بات کو بیان کیا ہے کہ اعلیٗ منزل یہ ہے کہ جلوت میں بھی خلوت نصیب ہو۔ حضوررﷺ کو پہلے پہلے لوگوں سے وحشت ہوتی تھی اور خلوت ہی کو پسند کرتے تھے بعد میں جب اللہ کی حقیقت اور واشگاف ہوئی تو انہیں خلوت و جلوت میں یکساں یکسوئی حاصل ہو جا تی تھی ۔ ابن عربی نے اس طرف ہماری توجہ دلائی۔ ترکِ دنیا کا الزام شاید کچھ کمزور طبیعت کے صوفی نما لوگوں پر لگا یا جاسکتا ہے لیکن اکابر صوفیا جن کا زیادہ تر تعلق عجم سے ہی ہے، اس الزام سے بری ہیں۔ صوفیوں کا قول ’’ ترکِ دنیا ترکِ عقبیٰ ترکِ مولا ترکِ ترک‘‘ اقبال کو تسلیم ہے۔ انکے ہاں ’’ خلوت آغاز است وجلوت اتنہا است‘‘ہے۔ صوفیہ نے کبھی بھی ذاتِ الہی کی تنزیہی حیثیت کا انکار نہیں کیا اور انہوں نے اگر تشبیہ پر زور دیا ہے تو اسکے یہ معنی ہر گز نہیں کہ اpantheism کا الزام لگایا جا سکتا ہے ۔ تما م صوفیا نے بشمول منصور حلاج کے ذاتِ باری کی ماوراأت یا تنزیہہ کی بات کی ہے۔ اس سلسلے میں ابن عربی نےِ فصوص وفتوحات دونوں میں غیرمبہم الفاظ میں تنزیہہ کی بات کی ہے۔

      اقبال کا یہ بیان کہ دین میں باطنی معنی تلاش ہی نہ کئے جائیں یا وہ وہاں ہے ہی نہیں قابل قبول نہیں ہے۔ ظاہری معنی پر اکتفا کرنے سے ساری مقّدس کتابوں بشمول قرآن کا حلیہ ہی بگڑ جاتا ہے ۔ مجموعی طور پرامت نے ٹھیٹ ظاہریت کبھی تسلیم نہیں کی۔ یہ تنقیدی دبستانوں کے اس مسلّمہ نظریے کہ الفاظ کے معنی تہہ در تہہ ہو سکتے ہیں، کے خلاف بھی جاتا ہے۔

      اقبال کی اس رائے کو قبول نہیں کیا جاسکتا کہ صوفیا نے توحید کی ضد کثرت کو سمجھا اور شرک کو نہیں سمجھا ۔ اگر چہ اقبال نے خود لا موجود الاللہ کہکراس اعتراض کو تقریباََ زائل کیا ہے، اس سلسلے میں کچھ اور نکات کی طر ف توجہ دینی چاہیے ۔ صوفیا نے کثرت کا اور اضافی معنی میں اسکی خدا سے غیریت کا کبھی انکار نہیں کیا ۔فوق الصور ذات مختلف صورتوں میں ہی ظاہر ہوتی ہے۔ غیب الغیب یا ذات الذات خواہشِ ظہور کے بغیر صوفی کے مطلب کی چیز ہے ہی نہیں ۔ اس سے نہ محبت کی جاسکتی ہے، نہ اسے دُعا کی جا سکتی ہے۔ صوفیا کا نہ صرف کثرت کے وجود (اضافی ہی سہی )اور ایک لحاظ سے غیر یت پر نہ صر ف پورا پورا ایمان ہے بلکہ اس کو پورے ہوش کے ساتھ خود کی reference کے بغیر دیکھنے کو خدا کو دیکھنے سے تعبیر کیا ہے۔ دورِ جدید کی ایک سّریت پسند مصّنفہ سمان ویل نے خدا کی تعریف ان الفاظ میں کی تھی’’God is attention without distraction‘‘ ۔ صوفی کا مطمحِ نظر خداکی آنکھ سے عالم رنگ و بو اور دوسرے عالموں کو دیکھنا ہے۔ دوسرنکتہ یہ ہے کہ توحید کے ایک ما بعد الطّبیعاتی معنی ہیں جو توحیدکی سب سے اعلیٰ درجہ کی معرفت سے عبارت ہے۔چونکہ مابعدالّطبیعات تعریفاََحقیقت کا عرفا ن ہے جیسا کہ روایت پسند مابعد اطبیعاتی صوفیا اور صوفی مفکرین نے صراحت کی ، اسلئے کلمہ یا توحید کے مابعد الّطبیعاتی معنی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

      اس ساری بحث کے با وُجود اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اقبال کو تصوّف سے کچھ اصولی اختلافات رہے ہیں۔ شاید سب سے اہم اختلاف انکی انفرادیت پسندی ہے۔ تصوّف کی روایت انفرادیت پسند نہیں رہی ہے ۔احساسِ خودی ہر شخص کا ایک سطح پر ڈاتی احساس ہی ہوتا ہے اور عرفان نفس سے ہی عرفان خداوندی ممکن ہوجاتا ہے۔ لیکن روح Spirit/Nous ایک فوقُ الشّخصی جوہر ہے جسے فرد کے خول میں محصورنہیں کیا جاسکتا اسلئے روایتی تصوف میں انفرادیت پسند فلسفہ کیلئے زیادہ گنجا ئش نہیں ہوسکتی ۔ مابعد الّطبیعات میں بھی حقیقتِ مطلق یا سچائی کو فر د کے میلانات،جذبات و احساسات کیلئے گنجائش نہیں ہے۔ فنا کے حصول کیلئے ضبطہِ نفس کی منزل دراصل انفرادیت کے احساس کو ختم کرنے کیلئے ہے ۔ اگر چہ آخری معنی میں خدا ایک فرد کی شخصی دریافت ہی ہوتی ہے لیکن حقیقتِ مطلق فرد کی کمزوریوں یا تحدیدات سے منزۃ ہوتی ہے۔ فرد ایک تحدید کا نام ہی ہے ۔چونکہ اقبال کی انفرادیت پسندی انکی مجموعی فکر پر زبردست اثر انداز ہوتی ہے. اسلئے انکی مابعد اطبیعات اور انکے فلسفے کے دوسرے اجزاء روایتی صوفی مسلک سے کسی حد تک محتلف سمت میں رخ کرتے ہیں ۔

      اقبال کا خدا کو انا کہنا صرف ایک حد تک صحیح ہے کیونکہ جہاں تک ذات الّذات Essence/Godhead/Absolute کا تعلق ہے اسکے متعلق لفظ خودی کا اطلاق صحیح نہیں ہے ۔ اقبال Anthropomorphismسے پوری خلاصی حاصل نہیں کر پائے ۔

      اقبال نے تصوّف کی فکری روایت کو جدید انسان کے لےٗ ممکن الحصول بنانے کے لےٗ اور اسکی نےٗ چیلینز سے عہدہ برآ ہونے کے لےٗ اہم کام کیا۔ اقبال نے یہ دکھایا کہ خودی یا عرفانِ ذات کے لےٗ انسان کوتصوّ ف کی شاہراہِ عام پر چلنے کے بغیر چارا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی دکھایا کہ ہم سب ایک لحاظ سے by default صوفی ہیں۔عشق،آزادی،عمل اور دوسری اہم اقدار کی بازیافت جو عالمِ انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں ہی صوفیا کا مطمح نظر ہے۔ تصوّ ف کیلےٗ خانقاہی نظام کو لازمِ و ملزوم قرار نہیں دیا جا سکتا۔تصوّ ف کی مخصوص اصطلاحات اور انکے روایتی معنی پر شدّت یا اصرار اقبال کو قبول نہیں ۔ انہوں نے فناو بقا، عقل و عشق، تصوّرِ شیخ و تصوّرِ ذات وغیرہ کی ایسی تعبیر و تفہیم کی جو پیر پرستی،استھان پرستی ،ماضی پرستی ، عقل بیزاری اور کچھ شرکیہ تصوّرات کی درآمدرک جاتی ہے۔ اس سلسلے میں میکش اکبر آبادی کی کتاب کا مطالعہ کیا جاےٗ۔تصوّ ف کو چیستاں بنانا اور اسکے نام پر عملیات، ضعیفالعقیدگی اور ایسی فلسفیانہ موشگافیاں جو دین کی صاف اور سادہ تصویر کو دھندلا کرے اقبال کو قبول نہیں۔ ایک طبقہ کی طرف سے تصوّ ف کی علمی،فکری ،اخلاقی اور تخلیقی سوتوں اور قوّتوں کی عظیم روایت کو تنگ دائرے یا گلی میں بند کرنے کے خلاف اقبال ہمیں مشورہ دیتے ہیں۔ جدید حسّیت کا خیال رکھ کے علمی اور عملی دونوں سطحوں پر متحرک اسلامی روایت کی بازیافت جسمیں نئی دنیا تعمیرکی جا سکے ، کی بات کر کے اقبال ہمارے لے اس گٹھن کا مداوا کرتے ہیں جو مادہ پرستی اور دنیا بیزارراہبانہ منہج پیدا کرتے ہےْ۔

       امام ابن تیمیہّ سے غلط طور پر منصوب تصوّف کا کلّی رد (مولانا تھانوی نے انکو کھردرا صوفی قرار دیا تھا اور امام انور شاہ کشمیری نے انکی کچھ extreme آرأا کا بجا محاکمہ کیا ہے )رد کرنے کی ضرورت ہے اوراقبال ،مولانا مودودی، غامدی صاحب وغیرہ کے کچھ بیانات (مثلا غامدی صاحب کاتصوّ ف کو عالمگیر ضلالت کہنا)کوانکی کلّی فکر کے تناظر میں رکھ کر اسلام کیintegral روایت جس میں تصوف اہم دھارا ہے، اور جسکی ترجمانی انکا مطمح نظر ہے،کی بازیافت آج ہمارا فریضہ ہے تاکہ فکری اور روحانی بے ر اہروی جسکی امّت شکار ہے کا ازالہ ہو۔اسلامی روایت میں ابن تیمیّہ اور ابن عربی دونوں کا اہم مقام ہے اور دونوں کے تفردات کی یا تو مناسب تاویل کی جائے یا انکی ثانوی حیثیت ملحوظ نظر رکھی جاے۔ آج مسلم دنیا ان دو نوں کو اگر ساتھ ساتھ رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے تو بڑی کامیابی ہو گی۔ اور اگر مسلم فلاسفہ یا حکما (جنکے تناظر میں اقبال کی تفہیم ممکن ہے) کو بھی اس روایت کی ،. اصولی طور پر،ایک جہت کا امین گردانے یا اسکے شارحین کی صف میں نہ دیکھنے کے رجحان کو ترک کرے تو یہ اس امّت کیلےٗ بڑا احسان ہو گا۔

      یہ نا ممکن ہے کہ کو ئی بھی بڑامسلم مفکر خود کو تصوّ ف کی تابناک روایت سے الگ ر کھ سکے۔ ٰ اسلام کی تہذیبی میراث میں تصوف انتہائی اہم جُز ہے ۔ تاریخ اسلام میں تصوف کی روایت بڑی گہری ہے اور ابن تیمیہ جیسے لوگ بھی ایک روایتی سلسلہ میں بیعت تھے اورانکے تلامذہ نے بھی سلوک پر کتابیں لکھیں۔ اقبال کی زندگی تو حُبِ رسول(ص) اور حُب اولیا ء سے عبارت تھی ۔انکو اکثر صوفیا سے زبردست عقیدت تھی، تصوف کے جتنے بھی بڑے نام ہیں تقریباََ سب کا نام احترام سے لیتے تھے۔ کچھ کے مزارات پر حاضری بھی دیتے تھے۔مختصراً  ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال تصوف یا سرّیت کی تاریخ کے ایک اہم اور درخشندہ ستارے ہیں۔ انہیں ہم عجمی صوفیا کی صف میں نمایاں طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment