اسلام اور تصوّف کی غیر متنازعہ روایت: اقبال کے خصوصی حوالے سے
حقیقت عظمٰی جاننے اور اس سے رابطے کے لئے انسان کے پاس چار طریقے رہے ہیں مذہب،فلسفہ، تصوّف(سرّیت)اور شاعری۔سریت یا تصوف کو سرے سے رد کرناانسان کے ایک حس کو معطل کرنا ہے۔ ان چاروں دبستانوں کو اپنی اپنی حد اختیار میں رکھ کر انکو حقیقت کے کامل عرفان کا ذریعہ بنانا انسانکی کامل تشفگی کا ضامن ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کی تعبیر و تفہیم میں مدد دے سکتے ہیں۔مذہب کے ڈانڈے فلسفہ و سریت سے اور تینوں شاعری کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ اقبال دنیا کی ان چند بڑی ہستیوں میں شامل ہیں جو ا ن سب طریقوں سے اعتنا رکھتے ہیں اور یہ انکی عالمگیر مقبولیت کی ایک وجہ ہے۔آج ہم انکیے تصوّف کی جہت کے مطالعہ کے سلسلے میں چند اہم نکتے زیرِبحث لاتے ہیں۔ دوسرے اہم علوم جنمیں فقہ، حدیث اور فلسفہ و سائنس کی بہت سی جہات اور انکی ترقی شامل ہیں کی طرح تصوّف کے برگ و با ربھی عرب سے باہر ہی ظاہر ہوے۔تصوّف عجم میں پھلا پھولا۔تصوّف ہمیشہ سے دین کا حسن یا اسکی تکمیل یا اسکی اخلاقی و روحانی جہات کی بازیافت کے طور اسلام کا جزو لا ینفک یا مقصود گردانا گیا ہے۔اس کے لےٗ احسان کی اصطلاح مستعمل تھی۔ اکابرِ صوفیا...
Comments
Post a Comment